تحریر: مولانا ڈاکٹر سيد فياض حسين رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران کا اسلامی انقلاب (1979ء) بیسویں صدی کے اہم ترین سیاسی و دینی واقعات میں شمار ہوتا ہے جس نے نہ صرف ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کیا، بلکہ عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست میں بھی گہرے فکری، ثقافتی اور جغرافیائی اثرات مرتب کیے۔ اس انقلاب نے سیاست میں دین کے کردار کو دوبارہ زندہ کیا، استعمار مخالف اور خودمختاری پر مبنی فکر کو تقویت دی اور جدید دور میں دینی حکومت کا ایک قابلِ عمل نمونہ پیش کیا۔ ہندوستان، جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے اور جو تاریخی طور پر ایران کے ساتھ علمی و ثقافتی روابط رکھتا ہے، ان اثرات سے خاص طور پر متاثر ہوا۔ یہ مقالہ انقلابِ اسلامی ایران کے عالمی اثرات اور ہندوستان میں اس کے فکری، مذہبی، تعلیمی اور سماجی ثمرات کا ایک علمی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔
کلیدی الفاظ: ایران کا اسلامی انقلاب، اسلامی بیداری، سیاسی اسلام، ہندوستان، شیعہ مسلمان، محورِ مقاومت، استکبار مخالف تحریکیں
تمہید
بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں دنیا بڑی حد تک دو نظریاتی بلاکس، سرمایہ دارانہ مغرب اور اشتراکی مشرق، میں منقسم تھی۔ ان دونوں نظاموں میں دین کو اجتماعی و سیاسی زندگی سے تقریباً خارج کر دیا گیا تھا۔ ایسے ماحول میں ایران کا اسلامی انقلاب ایک غیر متوقع مگر فیصلہ کن واقعہ کے طور پر سامنے آیا جس نے یہ ثابت کیا کہ مذہب جدید دور میں بھی ایک متحرک اور مؤثر سیاسی قوت بن سکتا ہے۔
یہ انقلاب نہ صرف شاہی آمریت کے خاتمے کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے مسلم دنیا میں خود اعتمادی، سیاسی شعور اور دینی شناخت کو نئی زندگی بخشی۔ ہندوستان، جو صدیوں سے اسلامی علوم، فارسی تہذیب اور شیعہ علمی روایت کا اہم مرکز رہا ہے، اس فکری لہر سے براہِ راست متاثر ہوا۔
تحقیقی طریقۂ کار
یہ مقالہ تاریخی و تجزیاتی (Historical–Analytical) طریقۂ تحقیق پر مبنی ہے۔ اس میں بنیادی مصادر (امام خمینی کے خطابات و تحریریں) اور ثانوی مصادر (عربی، فارسی، اردو اور انگریزی کتب و مقالات) سے استفادہ کیا گیا ہے۔
الف:ایران کے اسلامی انقلاب کے عالمی اثرات
1۔ سیاست میں دین کے کردار کی بحالی
اسلامی انقلاب سے قبل جدید سیاسی نظریات میں یہ تصور غالب تھا کہ دین ترقی یافتہ ریاست کے لیے موزوں نہیں۔ انقلابِ ایران نے اس نظریے کو عملاً رد کر کے ایک ایسے نظامِ حکومت کی بنیاد رکھی جس میں عوامی رائے (جمہوریت) اور دینی قانون (اسلامی شریعت) کو یکجا کیا گیا۔
اس ماڈل نے متعدد مسلم مفکرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سیاست، معیشت اور سماج کو بھی منظم کر سکتا ہے۔
2۔ خودمختاری اور استکبار مخالف فکر کا فروغ
"نہ مشرقی، نہ مغربی، بلکہ اسلامی جمہوریہ" کا نعرہ صرف ایک سیاسی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک فکری منشور تھا جس میں عالمی طاقتوں کی بالادستی کو چیلنج کیا گیا۔
اس نظریے نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں آزادی اور خودمختاری کی تحریکوں کو تقویت دی اور یہ احساس پیدا کیا کہ سیاسی فیصلے قومی مفاد اور عوامی اقدار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ بیرونی دباؤ پر۔
3۔ مسئلہ فلسطین کی عالمگیریت
انقلاب کے بعد ایران نے فلسطین کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ اس اقدام سے مسئلہ فلسطین ایک محدود عرب تنازع سے نکل کر پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ بن گیا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں عالمی سطح پر صہیونیت کے خلاف شعور میں اضافہ ہوا اور مزاحمتی تحریکوں کو فکری و اخلاقی حمایت ملی۔
4۔ اسلامی بیداری اور عوامی تحریکیں
1980ء کے بعد متعدد اسلامی تحریکوں نے انقلابِ ایران کو ایک کامیاب نمونہ کے طور پر دیکھا۔ تیونس، مصر، لبنان اور بحرین جیسے ممالک میں ہونے والی سیاسی بیداری میں انقلابِ ایران کے نظریاتی اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
5۔ شیعہ سیاسی فکر اور علومِ انسانی میں جدت
اسلامی انقلاب کے بعد فقہِ سیاسی، نظریۂ ولایتِ فقیہ، دینی جمہوریت، اور اسلامی معیشت جیسے موضوعات پر سینکڑوں علمی کتب اور تحقیقی مقالات لکھے گئے۔
یوں اسلامی علوم محض کلاسیکی مباحث تک محدود نہ رہے بلکہ جدید ریاست، قانون اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات سے بھی جڑ گئے۔
ب: ہندوستان میں ایران کے اسلامی انقلاب کے اثرات
1۔ دینی اور مذہبی شناخت کا استحکام
ہندوستانی مسلمانوں، خصوصاً شیعہ برادری میں انقلاب کے بعد مذہبی خود آگاہی میں اضافہ ہوا۔ امام خمینی کی شخصیت کو ایک دینی و سیاسی رہنما کے طور پر دیکھا گیا جس نے نوجوان نسل کو دین سے دوبارہ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2. ایرانی ثقافتی و تعلیمی مراکز کا کردار
انقلاب کے بعد دہلی، لکھنؤ، ممبئی اور حیدرآباد میں قائم ایرانی ثقافتی مراکز نے درج ذیل خدمات انجام دیں:
اسلامی انقلاب پر سیمینارز اور کانفرنسیں
اردو و انگریزی میں کتب کی اشاعت
ایرانی و ہندوستانی علماء کے مشترکہ علمی پروگرام
3. دينی مدارس کا قيام
انقلاب کے بعدخصوصاً شیعہ برادری میں مذہبی خود آگاہی میں اضافہ ہوا اور نوجوانو ں ميں دينی تعليم حاصل کرنے کا جذبہ پيدا ہوا جس کے ننيجہ میں انقلابی فکر اور دينی بصيرت پهل گئی.
4. فکری ادب کے تراجم اور اشاعت
امام خمینی، شہید مطہری، ڈاکٹر علی شریعتی اور دیگر انقلابی مفکرین کی تحریریں ہندوستانی جامعات اور مدارس میں زیرِ مطالعہ آئیں۔
ان کتب نے اسلام کو ایک متحرک سماجی نظام کے طور پر متعارف کروایا نہ کہ صرف انفرادی عبادت تک محدود مذہب کے طور پر۔
5. دینی مدارس اور علمی روابط
قم کی حوزۂ علمیہ اور ہندوستانی مدارس کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھا۔ کئی ہندوستانی طلبہ نے ایران میں دینی تعلیم حاصل کی اور واپس جا کر جدید فکری مباحث کو نصاب میں شامل کیا۔
6. فلسطین اور عالمی مسائل پر شعور
یومِ القدس کے اجتماعات اور فلسطین کے حق میں بیانات نے ہندوستانی مسلمانوں میں عالمی سیاسی شعور کو فروغ دیا اور انہیں امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل سے جوڑا۔
7. ثقافتی خود اعتمادی اور مغربیت کے مقابلے میں مزاحمت
انقلابِ ایران نے یہ پیغام دیا کہ جدیدیت کا مطلب مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نہیں۔ اس تصور نے ہندوستانی مسلمانوں میں اپنی ثقافتی شناخت پر اعتماد کو مضبوط کیا۔
8. انقلابِ اسلامی ایران شیعہ کی شناخت کا ذریعہ بنا
1979ء کے انقلابِ اسلامی ایران نے نہ صرف ایران کی سیاسی و سماجی ساخت کو بدل دیا بلکہ پوری دنیا میں تشیع کو ایک نئی فکری، سیاسی اور تہذیبی شناخت عطا کی۔ خصوصاً ہندوستان میں، جہاں شیعہ ایک مذہبی اقلیت کے طور پر صدیوں سے موجود تھے، انقلاب کے بعد شیعہ مکتبِ فکر کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔ اس انقلاب نے شیعہ نوجوانوں میں خود اعتمادی، دینی شعور اور سماجی بیداری کو فروغ دیا، اور انہیں اپنی مذہبی و فکری شناخت پر فخر کا احساس دلایا۔ نیز، امام خمینیؒ کی قیادت اور مزاحمتی فکر نے شیعہ معاشرے کو سیاسی بصیرت، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور امتِ مسلمہ کے مسائل میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ یوں انقلابِ اسلامی محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ شیعہ شناخت کی عالمی تشکیل کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
9.شيعه سنی اتحاد کو مضبوط بنانا
ایران کے اسلامی انقلاب نے ’’وحدتِ اسلامی‘‘ کے بیانیے کو پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات کو پسِ منظر میں ڈالنے اور توحید، قرآن، رسولِ اکرم ﷺ اور ظلم و استعمار کے خلاف جدوجہد جیسے بنیادی مشترکات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ امام خمینیؒ ہمیشہ اس اصول پر زور دیتے تھے کہ شیعہ اور سنی امتِ اسلامی کے دو طاقتور بازو ہیں اور ہر قسم کے مذہبی تنازعے کو وہ دشمنانِ اسلام کی سازش قرار دیتے تھے۔ آپؒ واضح طور پر فرماتے تھے کہ فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینا استعمار اور صہیونیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔
ہندوستان میں بھی اس طرزِ فکر نے بعض علمی اور دینی حلقوں میں بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیا اور سماجی و سیاسی مسائل میں شیعہ اور سنی کے درمیان مشترکہ تعاون کو تقویت بخشی۔ تاہم بعض علاقوں میں منفی پروپیگنڈے اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث غلط فہمیاں اور فرقہ وارانہ حساسیتیں بھی پیدا ہوئیں۔ اس کے باوجود امام خمینیؒ کی فکر کی بنیاد اس بات پر قائم تھی کہ وحدت کا مطلب عقائد کو ترک کرنا نہیں، بلکہ شعوری طور پر ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اختیار کرنا اور مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں تعاون کرنا ہے۔
آپؒ فرمایا کرتے تھے:’’اگر مسلمان متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
ايک جائزہ
کچھ لوگو ں کا کهنا ہے اگر چه انقلابِ ایران نے وسیع فکری اثرات مرتب کیے، تاہم بعض حلقوں میں اسے صرف شیعہ سیاسی تحریک کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ بعض سنی حلقوں میں فقہی اختلافات کی بنیاد پر تحفظات بھی پائے گئے۔ ليکن حقيقت یه ہے که اس فکر کے باوجود مجموعی طور پریه انقلاب مسلم دنیا میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
نتیجہ
ایران کا اسلامی انقلاب جدید تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ دین، سیاست اور عوامی حاکمیت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ باہم مربوط ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس نے استکبار مخالف فکر اور اسلامی بیداری کو فروغ دیا، جبکہ ہندوستان میں اس نے دینی شناخت، علمی روابط اور سماجی شعور کو تقویت پہنچائی۔
یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انقلابِ اسلامی ایران محض ایک قومی واقعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و تہذیبی تحریک ہے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
منتخب علمی مصادر
امام خمینی، صحیفہ امام، تہران۔
مرتضیٰ مطہری، پیرامونِ انقلابِ اسلامی، تهران: صدرا۔
علی شریعتی، امت و امامت۔
سید حسین نصر، اسلام اور جدید دنیا۔
John L. Esposito, The Iranian Revolution: Its Global Impact, Oxford University Press.
Hamid Dabashi, Theology of Discontent.
Nikki R. Keddie, Modern Iran: Roots and Results of Revolution.
S. A. A. Rizvi, A SocioIntellectual History of the Shi‘as in India.
Juan Cole, Sacred Space and Holy War.
Olivier Roy, The Failure of Political Islam.









آپ کا تبصرہ